رانچی، 4/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)صفائی سروے میں جھارکھنڈ میں چاس سب سے صاف ستھرا شہر ہے۔اس شہر کو 41واں مقام حاصل ہوا ہے جبکہ آدتیہ پور کو 144واں مقام ملا ہے،اس بار دھنباد کو 109واں مقام حاصل ہوا ہے جبکہ پچھلی بار دھنباد کو سب سے گندہ شہر قرار دیا گیاتھا۔جمشید پور کو 64واں، گریڈیہہ کو 81واں، ہزاری باغ کو 91واں، دیوگھر کو 102واں، رانچی کو 117واں، مان گو کو 131واں اور آدتیہ پور کو 144واں مقام ملا ہے۔مشرقی سنگھ بھوم کے ڈپٹی کمشنر امت کمار اور جمشید پور علاقہ کے خصوصی عہدیدار دیپک سہائے نے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو سے دہلی میں صفائی سٹی ایوارڈ قبول کیا۔شہری ترقیات کے مرکزی کے وزیر وینکیا نائیڈو نے آج صفائی سروے ایوارڈ کا اعلان کیا، جس میں مدھیہ پردیش کے اندور شہر کو ملک کے سب سے زیادہ صاف شہر کا ٹائٹل دیا گیا، جبکہ دوسرے مقام پر بھی اسی ریاست کا بھوپال شہر رہا۔اس سال کا صفائی سروے ملک کے 73شہروں کی 37لاکھ آبادی پر کیا گیاتھا، جس میں 25صاف شہروں کی درجہ بندی کی گئی ہے۔صاف شہروں کی فہرست میں آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم کو تیسرا جبکہ گجرات کے سورت شہر کو چوتھا مقام حاصل ہواہے۔گزشتہ سال کے سروے میں پہلے نمبر پر رہنے والے کرناٹک کے میسور شہر کو اس سال پانچویں مقام ملا ہے۔ٹاپ 50شہروں کی فہرست میں گجرات کے 12شہروں کو جگہ ملی ہے۔گجرات اور چھتیس گڑھ دو ایسی ریاستیں ہیں، جہاں صفائی کی درجہ بندی میں سب سے زیادہ بہتری آئی ہے۔شہری ترقیات کے مرکزی کے وزیر نائیڈو نے صفائی کو لے کر لوگوں کی حصہ داری کی تعریف کی۔غورطلب ہے کہ سروے میں ٹھوس کچڑا مینجمنٹ، گھر گھر سے اٹھانا، سڑکوں کی صفائی، کچڑے کی صفائی، نجی اور کمیونٹی ٹوائلٹ کی پوزیشن، صفائی کو لے کر لوگوں کی عادات کو بہتر بنانے اور صفائی کو لے کر تعلیم کو بنیاد بنایا گیا تھا۔شہری ترقیات کی وزارت کی طرف سے کوالٹی کونسل کی تشکیل کی گئی تھی۔مرکزی حکومت اس سے پہلے دو سروے کرا چکی ہے،پہلی بار سروے 2015میں کل 476شہروں کا کیا گیا تھا،اس کے بعد سروے 2016میں ملک کے 10 لاکھ سے زیادہ آبادی والے 73شہروں کاکیا گیا تھا۔